8 مارچ 2013 - 20:30

اس عظیم القدر محقق کے آثار کا جامع، موجز اور ضرورت وقت کے مطابق ہونا اس بات کا باعث بنا کہ ان کی کتابیں نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں قارئین کی توجہات کا مرکز قرار پائیں۔ یہاں تک کہ مغرب میں مسلمان یا شیعہ ہونے والے بہت سارے افراد آپ کی کتابوں سے متاثر ہو کر ہدایت پائے ہیں۔ ایک جملہ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آپ تنہا ’’ ایک مدرسہ‘‘ تھے۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ سید مجتبی موسوی لاری کی رحلت کی مناسبت سے اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نے ایک تعزیتی پیغام دیا ہے۔اس پیغام میں موصوف کی ۵۰ سالہ علمی اور تبلیغی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: جس چیز نے انہیں دائمی حیات بخشی اور ان کی خدمات کو منحصر بالفرد قرار دیا وہ آپ کی ہمیشگی تلاش و کوشش تھی جو آپ نے اپنے آثار کو دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمہ کروا کر نشر کرنے میں صرف کی۔نیز اس پیغام میں بیان کیا ہے: اس عظیم القدر محقق کے آثار کا جامع، موجز اور ضرورتِ وقت کے مطابق ہونا اس بات کا باعث بنا کہ ان کی کتابیں نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں قارئین کی توجہ کا مرکز بنیں۔ یہاں تک کہ مغرب میں مسلمان یا شیعہ ہونے والے بہت سارے افراد آپ کی کتابوں سے متاثر ہو کر ہدایت پائے ہیں۔ ایک جملہ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آپ اکیلے ’’ ایک مدرسہ‘‘ تھے۔پیغام کا ترجمہ یہ ہے:بسم الله الرحمن الرحیم«الذین یبلغون رسالات الله و یخشونه ولایخشون احداً الا الله و کفی بالله حسیبا»عظیم الشان دانشمند، مخلص مصنف، جامع مبلغ اور جہان اسلام کے مفکر ’’حضرت آیت اللہ سید مجتبی موسوی لاری‘‘ کی رحلت تمام محبّانِ معارف اسلامی اور دوستداران ثقافت شیعی کے لیے باعثِ تاسّف اور تالّم ہے۔اگر چہ اس عالم ربانی نے ۵۰ سال سے زیادہ عرصہ میں علمی، تبلیغی اور سماجی خدمات انجام دے کر بے مثال تالیفی اور تصنیفی آثار باقی چھوڑے ہیں لیکن جس چیز نے انہیں دائمی حیات بخشی ہے اور ان کی خدمات کو منحصر بالفرد قرار دیا ہے وہ آپ کی ہمیشگی تلاش و کوشش تھی جو آپ نے اپنے آثار کو دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمہ کروا کر نشر کرنے میں صرف کی ۔ آپ نے صرف کتابوں کی تالیف اور تصنیف پر اکتفا نہیں کی بلکہ ’’ مرکز نشر معارف اسلامی در جہان‘‘ کے نام سے ایک کمپلکس قائم کر کے کتابوں کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کی۔اس عظیم القدر محقق کے آثار کا جامع، موجز اور ضرورت وقت کے مطابق ہونا اس بات کا باعث بنا کہ ان کی کتابیں نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں قارئین کی توجہات کا مرکز قرار پائیں۔ یہاں تک کہ مغرب میں مسلمان یا شیعہ ہونے والے بہت سارے افراد آپ کی کتابوں سے متاثر ہو کر ہدایت پائے ہیں۔ ایک جملہ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آپ تنہا ’’ ایک مدرسہ‘‘ تھے۔اس عظیم الشان عالم دین کا اخلاص، اخلاق اور تواضع و انکساری مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ نمونہ کے طور پر باقی رہیں گے۔ طوبی له و حسن مآب.                                                                                                                         اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی                                                                                                                               ۹ مارچ، ۲۰۱۳وضح رہے کہ آیت اللہ سید مجتبی موسوی لاری، عالم اسلام کے ایک بزرگ دانشمند ایک طولانی علالت کے بعد آج صبح ۷۷ سال کی عمر پا کر اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔242/